دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی اور سمندروں میں پھیلتا پلاسٹک کا کچرا ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، لیکن حالیہ سائنسی مشاہدات نے ایک حیران کن پہلو بھی سامنے رکھا ہے۔ محققین کے مطابق سمندر میں تیرتا ہوا پلاسٹک کا ایک عام سا ٹکڑا کئی سمندری جانداروں کے لیے عارضی مسکن (رہائش گاہ) بن گیا ہے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ سمندروں میں پہنچنے والا پلاسٹک عموماً مچھلیوں، کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے، مگر بعض حالات میں یہی فضلہ سمندری جانداروں کو چمٹنے اور رہنے کی جگہ بھی فراہم کر دیتا ہے۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ ایک پلاسٹک کے ٹکڑے پر کائی (الگی)، چھوٹے کیڑے نما جاندار، باریک جھینگے اور دیگر خوردبینی حیات نے اپنی کالونی بنا لی۔
سائنسدانوں کی تشویش
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بظاہر فطری موافقت (ایڈاپٹیشن) لگتی ہے، مگر اس کے طویل مدتی اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پلاسٹک چونکہ قدرتی طور پر تحلیل نہیں ہوتا، اس لیے یہ سمندر میں برسوں تیرتا رہتا ہے اور اس کے ساتھ چمٹے جاندار ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس عمل کو “رَافٹنگ” کہا جاتا ہے، جو غیر مقامی انواع کو نئے ماحولیاتی نظام میں داخل کر کے حیاتیاتی توازن بگاڑ سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا کردار
سمندری درجہ حرارت میں اضافہ، تیز سمندری لہریں اور بدلتے ہوئے بحری دھارے پلاسٹک کے فضلے کو دور دراز علاقوں تک پہنچا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عوامل پلاسٹک کو ایک “مصنوعی جزیرہ” کی طرح استعمال ہونے کا موقع دے رہے ہیں، جہاں مختلف جاندار عارضی طور پر زندہ رہ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی خطرہ برقرار
اگرچہ کچھ جانداروں کو وقتی فائدہ ہوتا دکھائی دیتا ہے، لیکن پلاسٹک میں موجود زہریلے کیمیکل، مائیکرو پلاسٹک ذرات اور خوراکی زنجیر میں داخل ہونے والے آلودہ مادے بالآخر انسانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک سمندروں میں شامل ہو رہا ہے، جو سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے مستقل خطرہ ہے۔
حل کیا ہے؟
ماہرین کا زور اس بات پر ہے کہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ری سائیکلنگ کو فروغ، اور ساحلی علاقوں کی صفائی کے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر کو کچرا گھر بنانے کے بجائے قدرتی حیات کے محفوظ مسکن کے طور پر بچانا ہی انسانیت کے مفاد میں ہے۔
نتیجہ: پلاسٹک کا ایک ٹکڑا وقتی طور پر سمندری حیات کا سہارا بن سکتا ہے، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران کی ایک پیچیدہ علامت ہے۔ اصل ضرورت پلاسٹک آلودگی کو جڑ سے کم کرنے کی ہے۔