dastar bandi ravana

عظمتِ قرآن کانفرنس: روانہ کی علمی و روحانی بساط پر انوارِ الٰہی کا نزول

ادارہ

عظمتِ قرآن کانفرنس: روانہ کی علمی و روحانی بساط پر انوارِ الٰہی کا نزول

رپورٹ – ڈاکٹر میم الف نعیمی (ایڈووکیٹ) 

   یہ محض ایک جلسہ یا روایتی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ ذکرِ رحمان کی وہ مقدس تالیف اور عشقِ مصطفیٰ کی وہ معطر تجلی تھی جس نے شاہ آباد کے قصبہ روانہ کی پیاسی زمین کو سیراب کر دیا۔ 8 فروری 2026 کی وہ تاریخی ساعت، جب فضاؤں میں قرآن کی عظمت کے فلک شگاف نعرے گونجے، تو محسوس ہوا کہ آسمان سے رحمت کے فرشتے زمین پر اتر آئے ہیں اور ہر سو نور کی ایک چادر تان دی گئی ہے۔

عظمتِ قرآن کانفرنس کا پر کیف منظر

   اس پوری محفل کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر مبین اشرف نعیمی (ایڈیٹر روزنامہ جدید نیوز) نے جس ادبی چاشنی، برجستگی اور خطیبانہ سلیقے سے انجام دیے، اس نے جلسے کی وقار و ہیبت کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔

ڈاکٹر مبین اشرف نعیمی صاحب نقابت کے فرائض انجام دیتے ہوئے

   اس نورانی بزم کا باقاعدہ آغاژ تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی ہر آیت نے سامعین کے قلوب میں ایمان کی شمعیں روشن کر دیں۔ قرآن کی لافانی رفعت پر مفتی فاضل صاحب نے جب اپنے فکر انگیز خیالات کا اظہار کیا، تو حاضرین پر حقیقتِ کائنات آشکار ہونے لگی۔

حضرت مولانا فاضل صاحب خطاب کرتے ہوئے

   مدرسہ نور العلوم سیفنی کے استاد قاری رضوان الدین صاحب نے جب اپنی سحر انگیز اور رقت آمیز آواز میں نعتِ نبی کے گلدستے پیش کیے، تو فضاؤں میں درود و سلام کی مہک بس گئی اور پوری محفل پر ایک کیف آور وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔

نعت خواں حضرت قاری رضوان صاحب نعت نبی گنگناتے ہوئے

   کاشی پور کی زرخیز زمین سے تشریف لائے جید عالمِ دین حضرت علامہ مفتی قاسم القادری اشرفی صاحب کا خطاب اس محفل کا وہ درخشندہ باب تھا جس نے علم و حکمت کے نئے افق وا کر دیے۔ آپ نے قرآن کی اہمیت اور اس کی عالمگیر افادیت پر ایسا بصیرت افروز اور ولولہ انگیز بیان فرمایا کہ مجمع سبحان اللہ کی صداؤں سے لرز اٹھا۔ اسی علمی تسلسل میں آپ نے جب فضیلتِ خاندانِ علی علیہ السلام کو اپنے مخصوص علمی پیرائے میں بیان کیا، تو سامعین کی آنکھوں میں عقیدت کے ستارے جھلملانے لگے۔

حضرت مفتی قاسم القادری صاحب حاضرین سے خطاب فرماتے ہوئے ساتھ میں سید اویس اشرفی صاحب قبلہ

   قاری ریحان کمالی اور سید اویس اشرفی کے نعتیہ کلام نے روح کو تازگی بخشی،

قاری ریحان کمالی صاحب نعتیہ کلام پیش کرتے ہوئے

   جبکہ پروگرام کے کنوینر مولانا شاہ نواز اور نوخیز مقررہ راضیہ فاطمہ کی پُرمغز گفتگو نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔

حضرت مولانا شاہنواز صاحب ٹرسٹ کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے

   علم و تحقیق کے اس سنگم پر الجامعۃ الصابرہ للبنات کے پرنسپل مولانا عبد القادر اشرفی صاحب نے جدید سائنسی نقطہ نظر سے آیاتِ قرآنی پر ایسی مدلل روشنی ڈالی کہ عقلِ انسانی دنگ رہ گئی۔

حضرت مولانا عبد القادر صاحب خطاب کرتے ہوئے
 

   سفرِ عشق اپنے کمالِ عروج پر تب پہنچا جب مخدومِ عصر، شیخ الہند، مصورِ اشرفیت، حضور اشرفِ ملت حضرت علامہ سید محمد اشرف اشرفی جیلانی کی متبسم اور نورانی شخصیت جلوہ گر ہوئی۔ آپ کی آمد سے ایسا محسوس ہوا کہ گلستاں میں بہار آ گئی ہو۔ آپ نے اپنے صدارتی خطاب میں مومن اور منافق کی قلبی و ظاہری علامات کو اتنے شفاف انداز میں بیان کیا کہ حق و باطل کا فرق واضح ہو گیا۔ آپ نے اتحاد کو زندگی اور اختلاف کو موت قرار دیتے ہوئے امت کو یگانگت کا وہ درس دیا جو موجودہ عہد کی اولین ضرورت ہے۔

مجدد تعلیمات اشرفیہ حضور اشرف ملت سید محمد اشرف اشرفی صاحب قبلہ کچھوچھوی کلیدی خطاب فرماتے ہوئے

   شیطان کی مکاریوں سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ نے مجمع کو اپنے اندرونی دشمنوں سے باخبر کیا۔ مولا علی علیہ السلام کی شانِ اقدس میں آپ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والے کلمات نے مجمع میں وہ جوش پیدا کیا کہ ہر طرف نعرہ حیدری کی گونج سنائی دینے لگی۔ عوامی محبت کو دیکھتے ہوئے حضرت نے اگلے سال دوبارہ تشریف لانے کا جو وعدہ فرمایا، وہ تشنگانِ علم کے لیے کسی نویدِ جاں سے کم نہ تھا۔

   اس عظیم الشان روحانی دسترخوان کو سجانے اور اسے رونق بخشنے میں درج ذیل جلیل القدر مقتدر شخصیات اور نفوسِ قدسیہ نے اہم کردار ادا کیا

اکابرین اور علمائے کرام،

   حضرت مولانا مفتی رضوان احمد صاحب قبلہ، حضرت    قاری عتیق الرحمن صاحب اشرفی شہر امام سیفنی، حضرت مولانا فرید الدین اشرفی صاحب، حضرت مولانا محمد اکبر علی اشرفی صاحب، حضرت مولانا قاری سخاوت حسین اشرفی صاحب، حضرت مولانا محمد وصی اللہ اشرفی صاحب، اور حضرت حافظ و قاری   غلام مصطفی صاحب ملوٹ پنجاب ۔حضرت مولانا عظیم   اشرفی سنبھلی،

   اہل کمیٹی اور زینت اسٹیج حضرات میں خصوصی طور پر قاری ہارون اشرفی، قاری عادل اشرفی، قاری طاہر حسین اشرفی، حافظ غلام جیلانی، قاری شمس الحسن، حافظ بن یامین، مولانا ممتاز ، مولانا زاہد القادری، حافظ و قاری نزاکت حسین، مولانا رئیس بیروا ، قاری رئیس دھنورا، مولانا مجسم، قاری رضوان اشرفی للوارہ، قاری شاہ نواز سیفنی، حافظ مولانا مسلم سیفنی، قاری ارشاد، اشرفی، حافظ نزاکت،ماسٹر شمسی الدین سیفی، ماسٹر شفیق صابری، ڈاکٹر سعید اختر علیگ، مولانا شمیم اشرفی کمال پور، مولانا ناصر سیفنی، قاری یاسین اشرفی اور صوفی محمد احمد حسینی صاحبان نے شرکت کی ۔

   پروگرام کے اختتام پر بیعت و مریدی کا وہ لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جس نے توبہ کی خوشبو سے دلوں کے زنگ اتار دیے۔ صلاۃ و سلام کے ہدیے پیش کرنے کے بعد یہ یادگار کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ سفر بظاہر ختم ہو گیا ہے، مگر اس کی روحانی گونج اور برکتوں کے اثرات روانہ اور شاہ آباد کی گلیوں میں مدتوں تک مشامِ جاں کو معطر کرتے رہیں گے۔

About The Author


ادارہ