اسرائیل پر ایرانی جوابی حملوں میں بھاری جانی و مالی نقصان: 50 سے زائد ہلاک، تل ابیب اور یروشلم شدید متاثر

اسرائیل پر ایرانی جوابی حملوں میں بھاری جانی و مالی نقصان: 50 سے زائد ہلاک، تل ابیب اور یروشلم شدید متاثر

ادارہ

اسرائیل پر ایرانی جوابی حملوں میں بھاری جانی و مالی نقصان: 50 سے زائد ہلاک، تل ابیب اور یروشلم شدید متاثر

(تازہ ترین رپورٹ – 2 مارچ 2026)

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل پر جوابی حملوں کی شدید لہر شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل کو اب تک بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں میں تل ابیب، یروشلم، بیت شمش اور شمالی اسرائیل کے متعدد علاقوں کو شدید نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسرائیلی کیجولٹی اور جانی نقصان
اسرائیلی حکام نے تازہ ترین اپ ڈیٹ میں تصدیق کی ہے کہ حملوں میں اب تک 52 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی  ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری، خواتین، بچے اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔ تل ابیب میں ایک رہائشی عمارت پر براہ راست میزائل لگنے سے 18 افراد ایک ہی حملے میں شہید ہو گئے۔ یروشلم کے قریبی علاقوں میں بھی دو بڑے دھماکوں سے 12 افراد جاں بحق ہوئے۔ زخمیوں میں شدید حالت کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

انفراسٹرکچر اور معاشی خسارہ
اسرائیلی فوج کے مطابق دفاع کے نظام میں کئی جگہوں پر ناکامی کے باعث متعدد میزائل انٹرسپٹ نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً تل ابیب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، اہم فوجی اڈوں اور سول تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق ان حملوں سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے معیشت پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔ شمالی اسرائیل میں بھی حزب اللہ کے راکٹ حملوں سے زرعی علاقے اور شہری تنصیبات تباہ ہوئی ہیں۔

حزب اللہ کا حملہ اور علاقائی پھیلاؤ
لبنانی حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس سے شمالی سرحد پر مزید ہلاکتیں اور نقصانات کا سامنا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جواباً بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری کی ہے لیکن ملک کے اندرونی دفاعی انتظامات پر شدید دباؤ ہے۔

اسرائیلی حکومت کا ردعمل
اسرائیلی وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حملے ہماری سلامتی پر براہ راست حملہ ہیں اور ہم مکمل طاقت سے جواب دیں گے”۔ تاہم، حزب اختلاف نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ایرانی جوابی حملوں سے قبل تیاریاں ناکافی تھیں۔ فوج نے شہریوں سے پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت جاری رکھی ہے اور ملک بھر میں ایمرجنسی حالت نافذ ہے۔

عالمی ردعمل
امریکہ نے اسرائیل کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ خلیجی ممالک نے فضائی حدود بند کر دی ہیں اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیل پر حملوں کی شدت تیسرے دن بھی برقرار ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ مزید جانی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ صورتحال انتہائی نازک ہے اور تمام آنکھیں اسرائیلی دفاعی اقدامات پر ہیں۔

About The Author


ادارہ