مظاہرہ روکنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا!
افتخاراحمدقادری
نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمعہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی پولیس نے غیر معمولی انتظامات کیے۔ پولیس کی جانب سے پہلے ہی مظاہرے کی اجازت مسترد کردی گئی تھی اور نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے گئے تھے جن کے تحت غیر مجاز اجتماع، جلوس اور احتجاجی سرگرمیوں پر قدغن عائد تھی۔ اس کے باوجود اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور مختلف سماجی کارکنوں نے جنتر منتر کی سمت پیش قدمی کی اور احتجاج درج کرانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پولیس نے بڑی تعداد میں مظاہرین اور سیاسی و سماجی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ مختلف ذرائع نے حراست میں لیے جانے والوں کی تعداد پانچ سو سے سات سو سے زائد تک بتائی ہے۔
انتظامیہ نے اپنے اقدام کو سیاسی اختلاف سے تعبیر نہیں کیا بلکہ اسے قانون و انتظام، عوامی سلامتی اور ٹریفک کے نظم و ضبط سے مربوط قرار دیا۔ پولیس کا استدلال تھا کہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی تھی اور بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے نہ صرف ٹریفک کا نظام متاثر ہونے کا اندیشہ تھا بلکہ ممکنہ تصادم اور امن و امان کی صورتِ حال بھی پیچیدہ ہوسکتی تھی۔ چنانچہ جنتر منتر اور اس کے گرد و نواح میں بھاری نفری تعینات کی گئی، متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی اور مرکزی دہلی کی طرف آنے والے راستوں پر نقل و حرکت محدود کی گئی۔ دہلی میٹرو نے بھی پولیس کی ہدایت پر پہلے گیارہ اور بعد ازاں بارہ اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی دروازے بند یا محدود کیے، جبکہ جنتر منتر کے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے دائرے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی مقررہ مدت تک معطل رہیں۔
یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بھی قانون کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہوسکتا۔ آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع بنیادی جمہوری اقدار ہیں مگر ان حقوق کے استعمال کے ساتھ قانونی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ اگر کسی مخصوص علاقے میں مجاز اتھارٹی نے باقاعدہ امتناعی حکم نافذ کیا ہو تو اس حکم کی خلاف ورزی سے انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہونے کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے۔ حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھیں، جبکہ احتجاج کرنے والی سیاسی و سماجی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے جمہوری مطالبات کو پُرامن، منظم اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے پیش کریں۔
لیکن معاملے کا دوسرا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی احتجاج کو انتظامی حکم کے ذریعے روک دینا اس احتجاج کے پس منظر میں موجود سوالات کو ازخود ختم نہیں کر دیتا۔ اگر کسی جمہوری ادارے، انتخابی عمل یا ووٹر فہرست سے متعلق عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہوں تو ان کا جواب محض پولیس کی بیریکیڈنگ یا مظاہرین کی گرفتاری نہیں ہوسکتا۔ سوال اگر اعداد و شمار سے متعلق ہے تو جواب بھی اعداد و شمار سے آنا چاہیے، اعتراض اگر انتخابی فہرستوں سے متعلق ہے تو اس کا ازالہ شفاف جانچ پڑتال کے ذریعے ہونا چاہیے اور اگر کسی ادارے کے فیصلوں پر شبہات ظاہر کیے جارہے ہیں تو ادارے کی جانب سے مدلل اور دستاویزی وضاحت سامنے آنی چاہیے۔ جنتر منتر کا تازہ واقعہ بھی اسی وسیع تر پس منظر سے وابستہ ہے۔ مظاہرین کی جانب سے خصوصی گہری نظر ثانی، یعنی ایس آئی آر، کے دوران ووٹر فہرستوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور ناموں کے حذف کیے جانے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظر ثانی کے عمل میں شفافیت کا فقدان رہا اور ایسے ووٹروں کے نام بھی متاثر ہوئے جنہیں انتخابی حق سے محروم نہیں ہونا چاہیے تھا۔ دوسری طرف انتخابی کمیشن اپنے طریقہ کار اور اقدامات کا دفاع کرتا رہا ہے اور ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں کو آئینی و قانونی عمل کا حصہ قرار دیتا ہے۔
ان متضاد دعووں کے درمیان اصل ضرورت یہ ہے کہ الزامات اور جوابی الزامات کے بجائے قابلِ تصدیق اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ انتخابی فہرست کسی بھی جمہوری نظام کی محض انتظامی دستاویز نہیں ہوتی بلکہ یہ شہری کے حقِ رائے دہی کی بنیادی بنیاد ہے۔ کسی شخص کا نام ووٹر فہرست میں موجود ہونا اس کے انتخابی حق کے عملی استعمال کی ضمانت فراہم کرتا ہے، جبکہ نام کے اخراج سے وہ حق عملاً متاثر ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ووٹر فہرست کی تیاری، نظر ثانی، ناموں کے اخراج اور دو بارہ شمولیت کے تمام مراحل میں شفافیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی شہری کا نام حذف کیا گیا ہے تو اسے اس فیصلے کی وجہ معلوم ہونے، اعتراض درج کرانے اور قانونی طریقے سے اپنی شکایت کا ازالہ کرانے کا مؤثر موقع ملنا چاہیے۔ یہاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ ایک آئینی ادارے کی قوت محض قانونی اختیارات میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد میں مضمر ہوتی ہے۔ انتخابی کمیشن پر اگر حزبِ اختلاف، طلبہ تنظیمیں، سماجی کار کن یا شہری حلقے سوالات اٹھائیں تو ان سوالات کو صرف سیاسی شور قرار دے کر نظر انداز کر دینا مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ہر الزام کو بلا تحقیق درست مان لینا بھی مناسب طرزِ عمل نہیں۔ جمہوری صحت کا تقاضا یہ ہے کہ الزام کو ثبوت کے ترازو پر پرکھا جائے اور ثبوت کو آزادانہ جانچ کے معیار سے گزارا جائے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی جانچ اور حذف شدہ ناموں سے متعلق دو بارہ جائزے کے لیے ریاستی چیف الیکٹورل افسران کو ہدایات دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ عمل اگر واقعی شکایات کے ازالے، غلطیوں کی تصحیح اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کی سمت میں مؤثر طور پر آگے بڑھتا ہے تو اس سے تنازع کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پورا عمل قابلِ فہم، قابلِ رسائی اور عوام کے سامنے قابلِ تصدیق ہو۔ دوسری جانب احتجاج کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں کو بھی یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ جمہوری احتجاج کی قوت محض نعروں کی شدت یا اجتماع کی کثرت میں نہیں بلکہ اس کے اخلاقی نظم، قانونی شعور، مستند معلومات اور عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔
اگر کسی مقام پر قانونی طور پر امتناعی احکامات نافذ ہوں تو اسی مقام پر زبردستی اجتماع کرنے کی کوشش انتظامیہ کو کارروائی کا موقع فراہم کرتی ہے اور اصل مسئلہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ چنانچہ سیاسی و سماجی تنظیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدالتوں، انتخابی اداروں، پریس کانفرنسوں، دستاویزی ثبوتوں، عوامی مکالمے اور دیگر آئینی ذرائع کو بھی پوری قوت کے ساتھ استعمال کریں۔ احتجاج کا مقصد اگر انتخابی شفافیت کا سوال اٹھانا ہے تو احتجاج کے بعد بھی وہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح حکومت یا پولیس اگر امن و امان کے نام پر احتجاج روکتی ہے تو اس کے بعد بھی اسے اپنے فیصلے کے جواز کو واضح کرنا پڑتا ہے۔ قانون کا نفاذ اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن قانون کے نفاذ میں شفافیت، تناسب اور انسانی وقار کی رعایت بھی اسی قدر اہم ہے۔ حراست میں لیے جانے والے افراد کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے اور اگر کسی شخص کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی ضرورت نہیں تو غیر ضروری حراست سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔
جمعہ کے روز جنتر منتر پر جو کچھ ہوا اسے صرف پولیس اور مظاہرین کے درمیان ایک روزہ کشمکش سمجھ لینا شاید اصل مسئلے کو محدود کر دینا ہوگا۔ جنتر منتر ہندوستان میں احتجاج اور اختلافِ رائے کے اظہار کی ایک معروف علامت ہے۔ یہاں ہونے والی ہر بڑی سیاسی سرگرمی اپنے اندر ایک وسیع تر عوامی پیغام رکھتی ہے۔ اس لیے کسی احتجاج کا جسمانی انعقاد روک دینا انتظامی کارروائی ہوسکتی ہے لیکن اس کے پس منظر میں موجود سیاسی، آئینی اور انتخابی سوالات کا جواب نہیں۔ حکومت کے لیے بھی یہ لمحہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ عوامی اعتماد کسی انتظامی حکم سے پیدا نہیں ہوتا۔ اعتماد مسلسل شفافیت، جواب دہی اور قابلِ تصدیق اقدامات سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر انتخابی فہرستوں کے بارے میں شکایات ہیں تو ان کی آزادانہ جانچ کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں، اگر نام حذف ہوئے ہیں تو ان کے اعداد و شمار سامنے آنے چاہئیں، اگر غلطی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے اور اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو دستاویزی شواہد کے ساتھ ان کی تردید کی جانی چاہیے۔
اسی طرح اپوزیشن کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کی جد وجہد محض کسی ایک عہدے دار کے استعفے تک محدود ہے یا اس کے پیچھے انتخابی نظام کی شفافیت سے متعلق کوئی جامع مطالبہ موجود ہے۔ اگر مقصد عوام کے حقِ رائے دہی کا تحفظ ہے تو اس مقصد کے لیے احتجاج کے ساتھ ساتھ قانونی اور ادارہ جاتی راستوں کو بھی بروئے کار لانا ہوگا۔ کسی بھی جمہوری تحریک کی پائیداری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے مطالبات نعرے سے آگے بڑھ کر دستاویز، دلیل اور ثبوت کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جنتر منتر پر دفعہ 163 کا نفاذ، پولیس کی بھاری تعیناتی، بیریکیڈنگ، مظاہرین کی وسیع پیمانے پر حراست، انٹرنیٹ کی عارضی معطلی اور میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیاں، یہ سب کل کے انتظامی منظرنامے کا حصہ تھے؛ مگر انتخابی شفافیت اور عوامی اعتماد کا سوال ان انتظامی اقدامات کے ساتھ ختم نہیں ہوگیا۔ جمہوریت میں سڑکوں پر امن قائم رکھنا ضروری ہے، لیکن جمہوری امن کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ احتجاج کرنے والے سڑکوں سے ہٹا دیے جائیں۔
حقیقی جمہوری اطمینان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے، ان کا نام ووٹر فہرست میں بلاجواز حذف نہیں ہوگا، ان کی شکایت سنی جائے گی اور انتخابی ادارے کسی بھی سوال کا جواب دلیل اور ثبوت کے ساتھ دینے کے لیے آمادہ ہیں۔ اگر یہ اعتماد مضبوط ہے تو احتجاجی شور بھی نظام کو متزلزل نہیں کرسکتا، اور اگر یہی اعتماد کمزور پڑ جائے تو خاموش گلیاں بھی سوالوں سے خالی نہیں ہوتیں۔ جنتر منتر جمعہ کے روز خاموش کرا دیا گیا مگر وہاں اٹھائے گئے سوالات خاموش نہیں ہوئے۔ اب اصل امتحان احتجاج کرنے والوں یا پولیس کا نہیں بلکہ ان تمام آئینی اور جمہوری اداروں کا ہے جن پر ہندوستان کے انتخابی نظام کی صحت کا انحصار ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اختلاف کو تصادم میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے، الزام کو ثبوت سے پرکھا جائے، شکایت کو شفاف تحقیق سے گزارا جائے اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے ہر سوال کا جواب سیاسی مصلحت سے نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری، مستند اعداد و شمار اور عوامی جواب دہی کے ساتھ دیا جائے۔ کیونکہ جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد کا نام نہیں؛ جمہوریت دراصل اس اعتماد کا نام ہے جو ووٹر اپنے ووٹ، ووٹر لسٹ اور انتخابی اداروں کے بارے میں اپنے دل میں رکھتا ہے۔
