افغانستان: طالبان کا خواتین کے حقوق کے حوالے سے خصوصی فرمان، تعلیم اور ملازمت پر خاموشی نے نئے سوالات کھڑے کر دیے
کابل (نیوز ڈیسک): افغانستان میں طالبان حکومت کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک باضابطہ "خصوصی فرمان” جاری کیا ہے۔ اس فرمان میں نکاح اور جائیداد میں وراثت جیسے امور پر زور دیا گیا ہے، لیکن عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ اس اہم دستاویز میں خواتین کی تعلیم اور کام کرنے کے حق (روزگار) کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔
فرمان کے اہم نکات
طالبان کی جانب سے جاری کردہ اس 6 نکاتی مراسلے میں درج ذیل حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے:
-
رضامندی کا حق: نکاح کے وقت بالغ خاتون کی رضامندی لازمی ہے اور کسی پر بھی زبردستی شادی کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔
-
بیوہ کے حقوق: شوہر کے انتقال کے بعد بیوہ کو اپنی مرضی سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔ بیوہ کو اس کے حقِ مہر اور وراثت سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
-
وراثت میں حصہ: خواتین کو ان کے خاندان کے مرد رشتہ داروں (شوہر، والد یا بھائی) کی جائیداد میں شرعی حصے دار تسلیم کیا گیا ہے۔
-
حقِ مہر کی ادائیگی: نکاح کے وقت طے شدہ حقِ مہر کی ادائیگی شوہر کی شرعی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔
تعلیم اور روزگار پر پراسرار خاموشی
اس فرمان کے منظرِ عام پر آتے ہی بین الاقوامی مبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس میں افغانستان کی خواتین کے دو سب سے بڑے مسائل یعنی اعلیٰ تعلیم اور ملازمت پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول اور یونیورسٹی جانے پر کئی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں گھروں میں محصور ہیں۔
عالمی ردِ عمل اور انسانی حقوق کی تنظیمیں
انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ نکاح اور وراثت کے حقوق خوش آئند ہیں، لیکن تعلیم اور روزگار کے بغیر خواتین کی خودمختاری ناممکن ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ طالبان اپنی عالمی پہچان (Recognition) کے لیے خواتین کو تمام بنیادی حقوق فراہم کریں، بشمول تعلیم اور عوامی زندگی میں شرکت۔
زمینی حقائق اور چیلنجز
ماہرین کا ماننا ہے کہ طالبان یہ فرمان جاری کر کے عالمی برادری کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تاکہ منجمد اثاثوں کی بحالی اور سفارتی تنہائی کو ختم کیا جا سکے۔ تاہم، جب تک اسکولوں کے دروازے لڑکیوں کے لیے نہیں کھلتے، تب تک بین الاقوامی برادری کے تحفظات دور ہونا مشکل نظر آتے ہیں۔
رپورٹ: عالمی ڈیسک (جدید نیوز)
