منشیات کی اسمگلنگ اور بڑھتا ہوا تشدد: ایکواڈور کے صدر کی عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل
کوئٹو (نیوز ڈیسک): لاطینی امریکی ملک ایکواڈور میں منشیات کی اسمگلنگ اور جرائم پیشہ گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے ملک کو سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایکواڈور کے صدر نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ طاقتور منشیات مافیا کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کی فوجی اور مالی امداد کریں۔
بحران کی وجوہات
ایکواڈور، جو کسی زمانے میں اپنے پڑوسی ممالک (کولمبیا اور پیرو) کے مقابلے میں نسبتاً پرامن ملک سمجھا جاتا تھا، اب بین الاقوامی منشیات کارٹلز کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ بن چکا ہے۔ کوکین کی یورپ اور امریکہ اسمگلنگ کے لیے ایکواڈور کی بندرگاہوں کا استعمال بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی گینگ وار اور تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
صدر کا موقف
صدر نے اپنے حالیہ خطاب میں واضح کیا کہ منشیات مافیا کے پاس جدید اسلحہ اور وسیع مالی وسائل موجود ہیں، جن کا مقابلہ کرنا صرف مقامی پولیس یا فوج کے بس کی بات نہیں رہا۔ انہوں نے کہا، "یہ صرف ایکواڈور کی جنگ نہیں بلکہ ایک عالمی جنگ ہے، کیونکہ یہ منشیات پوری دنیا کے نوجوانوں کو تباہ کر رہی ہیں۔ ہمیں ان کارٹلز کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی ضرورت ہے۔”
جیلوں میں فسادات اور سڑکوں پر خوف
رپورٹ کے مطابق، ایکواڈور کی جیلیں منشیات کے گروہوں کے درمیان خونی تصادم کا مرکز بن چکی ہیں، جہاں اب تک سینکڑوں قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔ شہروں میں بم دھماکے، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے بعد کئی علاقوں میں ہنگامی حالت (State of Emergency) نافذ کر دی گئی ہے۔
عالمی ردِ عمل
امریکہ اور یورپی یونین نے ایکواڈور کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایکواڈور میں جرائم پیشہ گروہوں کو نہ روکا گیا تو پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
رپورٹ: انٹرنیشنل ڈیسک (جدید نیوز)
