Oplus_131072

Oplus_131072

ادارہ

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید

تہران — ایران کی سرکاری ریاستی ٹیلی ویژن اور دیگر حکومتی ذرائع نے تصدیق کر دی ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ 86 سالہ رہبرِ اعلیٰ کو تہران میں اپنے دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملے ہفتہ کی صبح شروع ہوئے، جن میں سپریم لیڈر کا دفتر اور دیگر عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ ایران نے اس واقعے کو "شہادت” قرار دیتے ہوئے 40 دن کا قومی سوگ اور 7 دن کی عام تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔

حملوں کا پس منظر

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی شروع کی، جسے امریکی محکمہ دفاع نے "آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا۔ اس آپریشن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے "انصاف” اور ایران میں تبدیلی کا موقع قرار دیا۔ اسرائیلی حکام نے بھی سپریم لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ حملے ایران کی جارحانہ صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے۔

ایرانی ردعمل

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور پاسدارانِ انقلاب نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فوج اور IRGC نے "تاریخ کی سب سے تباہ کن جوابی کارروائی” کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اسلامی دنیا کے لیے ایک نیا باب اور ظالم قوتوں کے خلاف جہاد کا آغاز ہے۔

عالمی اور علاقائی اثرات

خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل اور علاقائی امریکی اڈوں پر حملے جاری ہیں، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے مزید کارروائیوں کا اشارہ دیا ہے۔ ایران کے آئین کے مطابق اب سپریم لیڈر کے جانشین کا انتخاب کا عمل شروع ہوگا، جس میں ایکسپرٹس اسمبلی کردار ادا کرے گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ حکام نے دشمن کو جوابدہ ٹھہرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

تہران اور دیگر شہروں میں عوام سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں، جہاں حکومتی جلسوں، دعاؤں اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

About The Author


ادارہ