آیت اللہ سید علی خامنہ ای — عزم و استقامت کا وہ مینارہ جو گر کر بھی زندہ ہے
ڈاکٹر میم الف نعیمی (ایڈووکیٹ)
عالمِ اسلام کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں ہوتے بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک مزاحمتی روح کی علامت بن جاتے ہیں۔
ایسا ہی ایک نام آیت اللہ سید علی خامنہ کا ہے — وہ شخصیت جسے چاہے آپ سیاسی زاویے سے دیکھیں یا مذہبی پس منظر میں، انکار ممکن نہیں کہ وہ باطل کے سامنے جھکنے والوں میں سے نہ تھے۔
میں نے انہیں کبھی قریب سے نہیں دیکھا، نہ ان سے مصافحہ کا شرف حاصل ہوا، مگر دل کے کسی گوشے میں ان کے لیے ایک بے لوث محبت ہمیشہ موجود رہی۔ جب کبھی ان کی تصویر پر نظر پڑتی تو چہرے پر ایک عجب سکون، ایک نورانیت اور ایک استقامت کی جھلک محسوس ہوتی۔ یہ محبت مسلکی ہم آہنگی کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ اسلام کی عزت اور امت کی سربلندی کے احساس پر مبنی تھی۔
یہ حقیقت اپنی جگہ کہ میرے اور ان کے عقائد میں اختلاف موجود تھا، میں ایک سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہوں، مگر اس کے باوجود حق کے لیے ڈٹ جانے والے کو سلام کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ اختلافِ مسلک اپنی جگہ، مگر غیرتِ ایمانی اور جرأتِ اظہار اپنی جگہ۔
آج جب ان کی شہادت کی خبر نے دل کو جھنجھوڑا تو آنکھیں بے اختیار نم ہو گئیں۔ حالانکہ شہادت تو وہ عظیم مقام ہے جس کی آرزو ہر مومن کے دل میں سلگتی رہتی ہے، مگر جو شخصیت امت کے لیے ڈھال بنی ہو، اس کا یوں رخصت ہو جانا دل کو زخمی کر دیتا ہے۔
دنیا نے دیکھا کہ عالمی سامراج اور ان کی طاقتوں کے سامنے کتنے ہی مسلم حکمران جھک گئے۔ اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے انہوں نے اپنی غیرت گروی رکھ دی۔
عرب دنیا کے کئی سنی حکمرانوں کی خاموشی اور مصلحت پسندی امت کے لیے ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ فلسطین جلتا رہا، غزہ خون میں نہاتا رہا، مگر اقتدار کے ایوانوں میں صرف بیانات کی گرد اڑتی رہی۔
اس کے برعکس ایران کی قیادت نے، اختلافات کے باوجود، کم از کم زبان اور موقف کی حد تک مزاحمت کی روایت کو زندہ رکھا۔ یہ حقیقت ہے کہ تشیع مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد نے باطل کے خلاف جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کیں، شہادتوں کا جام پیا، اور میدان خالی نہ چھوڑا۔ ان کی سیاسی حکمتِ عملی سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ان کے جذبۂ مزاحمت سے انکار مشکل ہے۔
تاریخ جب پلٹ کر دیکھی جاتی ہے تو ایک نام ذہن میں آتا ہے — وہ سپہ سالار جس نے امت کی غیرت کو جگایا۔ ہر دور کا اپنا انداز ہوتا ہے، ہر میدان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، مگر غیرت، استقامت اور جرات کی روح ایک جیسی رہتی ہے۔
خامنہ ای صاحب کی شخصیت میں بھی یہی عنصر نمایاں تھا کہ وہ باطل کے سامنے سر جھکانے کے قائل نہ تھے۔ ان کا لب و لہجہ، ان کے خطبات، ان کی تقریریں — سب میں ایک پیغام ہوتا تھا کہ عزت مانگنے سے نہیں، ڈٹ جانے سے ملتی ہے۔انہیں آج کے دور کا صلاح الدین ایوبی کہنا بے جا نہ ہوگا.
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں۔ کیا وجہ ہے کہ امت کی قیادت بکھری ہوئی ہے؟ کیوں ہم مسلکی اختلافات میں الجھ کر اجتماعی قوت کھو بیٹھے ہیں؟
اگر ایک شیعہ رہنما باطل کے خلاف آواز بلند کرے اور سنی حکمران خاموش رہیں تو یہ صرف مسلکی مسئلہ نہیں، بلکہ قیادت کے فقدان کا المیہ ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ غیرتِ ایمانی مسلک کی جاگیر نہیں، بلکہ ایمان کی روح ہے۔
شہادت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک پیغام کی تجدید ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خونِ شہید سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں، بلکہ مزید مضبوط ہو جاتی ہیں۔
آج اگر واقعی وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں تو یہ لمحہ گریہ کا ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ لمحہ احتساب کا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے اسلام کی عزت کے لیے کوئی قربانی دی؟ یا ہم صرف تماشائی بن کر رہ گئے؟
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی جدوجہد کو قبول فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ایسی قیادت عطا فرمائے جو حق کے لیے کھڑی ہو سکے — خواہ وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتی ہو۔
آمین۔
