امریکہ-ایران کشیدگی پر بیانات میں تبدیلی، اتحادیوں میں بڑھتی دوری؛ ملائیشیا نے تجارتی معاہدہ منسوخ کر دیا
واشنگٹن / تہران / کوالالمپور:
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اب امریکی موقف میں نرمی اور بیانات میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ جہاں پہلے سخت رویہ اپنایا جا رہا تھا، وہیں اب حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمتِ عملی پر نظرثانی کے اشارے مل رہے ہیں۔
تازہ بیان میں امریکی قیادت کی جانب سے ایرانی عوام کی ذہانت اور اسٹریٹیجک صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ کہا گیا کہ “ایران کے لوگ نہایت ذہین، اعلیٰ فکری صلاحیت کے حامل اور بہترین حکمتِ عملی بنانے والے ہیں۔” ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ “شاید امریکہ کو اس صورتحال میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرنا چاہیے تھا۔”
ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ اب تصادم کے بجائے سفارتی راستوں پر غور کر رہا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی براہِ راست جنگ کے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ملائیشیا کا بڑا قدم
دوسری جانب جنوب مشرقی ایشیا سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملائیشیا نے امریکہ کے ساتھ اپنی مجوزہ تجارتی ڈیل منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ملائیشیائی حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قدم امریکہ کے لیے ایک سفارتی دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے روایتی اتحادی بھی اب فاصلے اختیار کر رہے ہیں۔
اتحادیوں کا بدلتا مؤقف
موجودہ صورتحال میں امریکہ کے کئی اتحادی ممالک بھی کسی ممکنہ جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اکثر ممالک نے جنگ میں کودنے سے انکار کرتے ہوئے مذاکرات اور امن کے راستے کو ترجیح دی ہے۔
تاہم، چند محدود ممالک اب بھی امریکہ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم بتائی جا رہی ہے۔
عالمی اثرات کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی عدم استحکام پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔
فی الحال عالمی برادری کی نظریں امریکہ اور ایران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔ سفارتی سطح پر مذاکرات کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے گا۔
