kabul-hospital-attack-171020347-16x9_0
ادارہ

کابل کے اسپتال پر پاکستانی حملہ، 400 سے زائد ہلاک، افغان-پاکستان کشیدگی میں اضافہ

کابل / اسلام آباد / اقوام متحدہ، 17 مارچ 2026:

افغان حکام کے مطابق پاکستان کی جانب سے کابل کے امید نشہ آور علاج (Omid Addiction Treatment) اسپتال پر ہونے والے ہوائی حملے میں کم از کم 400 افراد ہلاک اور تقریباً 250 زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں بیشتر وہ مریض تھے جو اسپتال میں علاج کر رہے تھے۔ حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی، عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہوا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہ اسپتال کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب اور سابقہ نیٹو بیس کے نزدیک واقع ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے سے لاشیں نکال رہی ہیں اور ابتدائی صبح تک تلاش و بچاؤ کا کام جاری رہا۔

پاکستان کی تردید اور موقف

اسلام آباد حکومت نے اس اسپتال کو نشانہ بنانے کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا فضائی حملہ ملٹری اور دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا اور کسی بھی شہری اسپتال کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان نے ان دعوؤں کو غلط اطلاعات قرار دیا اور کہا کہ یہ کارروائیاں افغان سرزمین سے آنے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف ہیں۔

ممکنہ پس منظر اور سیاسی زاویہ

ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اس حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر پاکستان کا افغان طالبان کو ایران کی مدد سے روکنے کا مقصد کارفرما ہو سکتا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ حملہ امریکہ کی ہدایت پر بھی کیا گیا ہو سکتا ہے، کیونکہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کو امریکہ کی کٹھ پتلی سمجھا جاتا ہے۔

یہ پہلو افغان اور بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں بحث کا باعث بنا ہوا ہے، اور اس سے خطے میں کشیدگی کے بڑھنے کے خدشات ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل اور علاقائی کشیدگی

یہ حملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی میں سب سے سنگین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مبصرین نے شہری ہلاکتوں اور ممکنہ علاقائی بحران پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

چین اور اقوام متحدہ نے فوری میکانیکی حد بندی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید انسانی نقصان روکا جا سکے۔ بھارت سمیت دیگر ممالک نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور اسے غیر متناسب اور شہریوں کے لیے خطرناک قرار دیا۔

انسانی بحران اور آئندہ صورتحال

اس حملے نے شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں اور امدادی اداروں کے ذریعے ابھی بھی بچاؤ اور تلاش جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ تنازعہ وسیع تر علاقائی تنازعات میں بدل سکتا ہے۔

About The Author


ادارہ