Oplus_131072

Oplus_131072

ادارہ

ڈلیوری کے دوران دو منزلہ عمارت سے گر کر حافظِ قرآن عالمِ دین جاں بحق

امامت چھوڑنے کے بعد اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے زیپٹو میں کر رہے تھے ڈلیوری کا کام، حادثے نے چھین لی زندگی

بنگلور/آر۔ٹی نگر: انتہائی افسوسناک واقعہ میں حافظِ قرآن و عالمِ دین قاری محمد ساجد خان قاسمی، ساکن سہرسہ، بہار، ڈلیوری کے دوران دو منزلہ عمارت سے گر کر شدید زخمی ہونے کے بعد جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے انتقال کی خبر سے اہلِ خانہ، متعلقین اور مذہبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

موصولہ تفصیلات کے مطابق قاری محمد ساجد خان قاسمی گزشتہ تقریباً 13،14 برس سے ضلع ٹمکور کے تُرویکیرے میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ بچوں کی تعلیم و بہتر مستقبل کے پیش نظر وہ بنگلور منتقل ہوئے اور آر۔ٹی نگر کی ایک مسجد میں نائب امام کی ذمہ داری سنبھالی، تاہم یکم اگست 2026 کو انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

بتایا جاتا ہے کہ قاری صاحب نے دو صفحات پر مشتمل اپنے استعفیٰ نامے میں بعض ذمہ داران کی جانب سے مسلسل ذہنی اذیت اور تکلیف کا بھی ذکر کیا تھا۔ بعد ازاں اہلِ خانہ کی کفالت اور ضروری اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے زیپٹو میں ڈلیوری کا کام شروع کر دیا۔

اسی سلسلے میں آر۔ٹی نگر کے ایک اپارٹمنٹ میں ڈلیوری دینے کے دوران وہ لفٹ کے لیے بنائی گئی کھلی جگہ سے اچانک نیچے جا گرے۔ حادثے میں انہیں شدید چوٹیں آئیں اور وہ ایک روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے، تاہم بالآخر اتوار کی صبح ان کا انتقال ہوگیا۔

قاری محمد ساجد خان قاسمی اپنے پیچھے اہلیہ، 6 سالہ بیٹے، 3 سالہ بیٹی اور ایک ضعیف والد کو سوگوار چھوڑ گئے۔ ان کے انتقال سے ایک خاندان کا سہارا چھن گیا اور ایک ایسے شخص کی زندگی کا چراغ بجھ گیا جو برسوں تک محرابِ مسجد میں کھڑے ہوکر لوگوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم اور اللہ کا کلام سناتا رہا۔

ائمہ و مؤذنین کے ساتھ حسنِ سلوک کی اپیل

کرناٹکا علماء فاؤنڈیشن نے قاری محمد ساجد خان قاسمی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مساجد کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ ائمہ و مؤذنین بھی معاشرے کا اہم حصہ اور انسان ہیں، انہیں عزت، ذہنی سکون اور حسنِ سلوک فراہم کرنا ضروری ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق اگر مساجد کی خدمت انجام دینے والے ائمہ و حفاظ کو مسلسل ذہنی اذیت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا رہا تو باصلاحیت علماء اور حفاظ محرابوں سے دور ہوتے جائیں گے، جس کا نقصان بالآخر پوری قوم کو اٹھانا پڑے گا۔

قاری محمد ساجد خان قاسمی کا المناک انتقال نہ صرف ان کے اہلِ خانہ کے لیے بلکہ پوری دینی برادری کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے اور معاشرے کو اس امر پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ مساجد کے ائمہ و مؤذنین کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

— کرناٹکا علماء فاؤنڈیشن

About The Author


ادارہ