pexels-pixabay-2166
أنشئ موقع الويب الخاص بك في دقائق معدودة من خلال الاستيراد بنقرة واحدة – دون أي متاعب في البرمجة!
ادارہ

کیا راکٹ سائنسدان اور نیورو سرجن واقعی زیادہ ذہین ہوتے ہیں؟ جدید تحقیق نے حیران کن انکشاف کر دیا

لندن (نیوز ڈیسک): عام طور پر جب ہمیں کسی کی ذہانت کی مثال دینی ہو تو ہم ‘راکٹ سائنسدان’ یا ‘نیورو سرجن’ (دماغی جراح) کا نام لیتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک سائنسی تحقیق نے اس دیرینہ تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ برطانوی طبی جریدے (BMJ) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ ماہرین عام عوام کے مقابلے میں ‘ضروری نہیں کہ زیادہ ذہین’ ہوں۔

تحقیق کے حیران کن نتائج

برطانیہ میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 329 ایرو اسپیس انجینئرز اور 72 نیورو سرجنز کے ڈیٹا کا موازنہ عام لوگوں کے ذہنی ٹیسٹ کے نتائج سے کیا گیا۔ ماہرین نے یادداشت، توجہ، ادراک اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا۔

تحقیق میں پایا گیا کہ:

  • نیورو سرجنز کی مسائل حل کرنے کی رفتار عام لوگوں سے زیادہ تھی، لیکن ان کی یادداشت کی رفتار سست دیکھی گئی۔

  • ایرو اسپیس انجینئرز (راکٹ سائنسدان) یادداشت اور توجہ کے معاملے میں عام لوگوں سے زیادہ مختلف ثابت نہیں ہوئے۔

‘یہ راکٹ سائنس نہیں ہے’ – محاورہ کتنا درست؟

ہم اکثر مشکل کاموں کے لیے کہتے ہیں کہ "یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے”۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ ہر انسان کی ذہانت مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔ راکٹ سائنسدانوں اور سرجنوں کو ان کے شعبوں میں مہارت حاصل ہوتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں عام انسان سے بہتر یا ذہین ہیں۔

ماہرین کی رائے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیشے کو ذہانت کے اعلیٰ ترین معیار کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہے۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر پیشہ اپنی نوعیت کی مہارت مانگتا ہے، اور ایک عام انسان بھی مخصوص تربیت کے ذریعے ان بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔


تحریر: سائنسی ڈیسک (جدید نیوز)


 

About The Author


ادارہ