دوراہے پر کھڑا مسلمان: اپنی شمع جلائے یا کسی اور چراغ کا آسرا لے؟

دوراہے پر کھڑا مسلمان: اپنی شمع جلائے یا کسی اور چراغ کا آسرا لے؟

ادارہ

دوراہے پر کھڑا مسلمان: اپنی شمع جلائے یا کسی اور چراغ کا آسرا لے؟

 

   آزادی کے بعد سے ہندوستانی سیاست میں مسلمان ایک اہم مگر پیچیدہ کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ تقسیم ہند کے زخموں کے ساتھ اس ملک میں رہ جانے والے مسلمانوں نے جمہوری عمل پر اعتماد کیا اور ووٹ کو اپنی آواز بنایا۔ مگر سات دہائیوں کے بعد بھی یہ سوال پوری شدت کے ساتھ موجود ہے: کیا مسلمانوں کو انصاف، ترقی اور تحفظ ملا، یا وہ صرف انتخابی موسم میں یاد کیے جانے والا ووٹ بینک بن کر رہ گئے؟

کانگریس: سیکولر وعدے اور زمینی حقیقت

   آزادی کے بعد ابتدائی دہائیوں میں انڈین نیشنل کانگریس  نے خود کو سیکولر اور ہمہ گیر جماعت کے طور پر پیش کیا۔ آئین میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، مذہبی آزادی اور پرسنل لا کی بقا یقیناً اہم اقدامات تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ سوال اٹھا کہ کیا یہ تحفظ صرف قانونی دفعات تک محدود رہا؟

   سچر کمیٹی  کی رپورٹ نے واضح کیا کہ مسلمان تعلیم، روزگار اور سرکاری نمائندگی میں شدید پسماندگی کا شکار ہیں۔ یہ انکشاف اس لیے چونکا دینے والا تھا کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی جماعت مسلمانوں کی حقیقی سماجی و معاشی ترقی یقینی نہ بنا سکی۔ یوں سیکولر سیاست کا بیانیہ اپنی جگہ، مگر عملی نتائج محدود نظر آئے۔

سماجوادی سیاست: وعدے، نمائندگی اور سوالات

   اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی  نے خود کو پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر پیش کیا۔ اکھلیش یادو  کے دور میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں حمایت کی امید کے ساتھ ووٹ دیا۔ اسمبلی میں نمائندگی بڑھی، کچھ ترقیاتی اسکیمیں بھی آئیں، مگر 2013 کے مظفر نگر فسادات جیسے واقعات نے حکومت کی صلاحیت اور نیت دونوں پر سوالات کھڑے کیے۔

   یہ تاثر پیدا ہوا کہ سیاسی شراکت ضرور ملی، مگر تحفظ اور بنیادی تبدیلی کا احساس مکمل طور پر قائم نہ ہو سکا۔

بہوجن سیاست اور بدلتے اتحاد

   بہوجن سماج پارٹی  کی قیادت میں مایاوتی  نے دلت سیاست کو قومی دھارے میں مضبوط کیا۔ بعض انتخابات میں مسلمانوں کو ٹکٹ اور نمائندگی دی گئی، لیکن بدلتے سیاسی اتحادوں اور حکمت عملیوں نے مسلمانوں میں مستقل اعتماد پیدا نہیں ہونے دیا۔ یہ احساس غالب رہا کہ ترجیحی سیاست کا محور دلت ووٹ رہا، جبکہ مسلم مسائل ثانوی حیثیت میں چلے گئے۔

اے آئی ایم آئی ایم: آواز یا ووٹ کی تقسیم؟

   آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور اس کی قیادت اسدالدین اویسی  کھل کر مسلم مسائل کو اٹھاتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ان کی تقاریر اور قانونی نکات مسلمانوں کے ایک طبقے کو متاثر کرتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ مختلف ریاستوں میں اس جماعت کی موجودگی سے سیکولر ووٹ تقسیم ہوتا ہے، جس کا فائدہ دیگر جماعتوں کو ملتا ہے۔

یہ بحث سیاسی ہے، اور اس کا حتمی فیصلہ عوامی شعور اور انتخابی نتائج پر منحصر ہے۔

بی جے پی اور عدم اعتماد کا ماحول

   بھارتیہ جنتا پارٹی  نے ترقی اور قوم پرستی کے بیانیے کے ساتھ اپنی سیاست کو آگے بڑھایا۔ مگر بابری مسجد انہدام، گجرات فسادات اور شہریت ترمیمی قانون جیسے واقعات نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں عدم تحفظ کے احساس کو تقویت دی۔ اگرچہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کو سب کے لیے مساوی قرار دیتی ہے، لیکن اعتماد کی کمی ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے۔

اصل سوال: مسلمان کہاں جائیں؟

   مسلمانوں کے سامنے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کس کو ووٹ دیا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ووٹ کس بنیاد پر دیا جائے۔ کیا فیصلہ جذبات کی بنیاد پر ہوگا یا پالیسی، کارکردگی اور مقامی امیدوار کی دیانت پر؟ کیا وقتی اتحاد کافی ہیں یا طویل المدتی تعلیمی اور معاشی حکمت عملی ضروری ہے؟

   حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک جماعت کو مکمل طور پر نجات دہندہ یا مکمل طور پر دشمن قرار دینا مسئلے کو سادہ بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے مطابق حکمت عملی بناتی ہیں؛ باشعور ووٹر ہی اپنے مفاد کی سمت طے کرتا ہے۔

   آزادی کے بعد سے آج تک مسلمان ہندوستانی جمہوریت کا حصہ رہے ہیں، مگر ان کی سماجی و معاشی حالت اب بھی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے وعدے بھی کیے اور نمائندگی بھی دی، مگر مجموعی ترقی کی رفتار توقعات سے کم رہی۔

  اداریے کا مقصد کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ یہ یاد دہانی ہے کہ ووٹ ایک امانت ہے۔ جب تک مسلمان تعلیم، تنظیم اور طویل المدتی سیاسی بصیرت کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک یہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا: "آخر جائیں تو کہاں جائیں؟”

شاید اصل جواب کسی جماعت کے نام میں نہیں، بلکہ شعور، اتحاد اور حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔

اداریہ :- ڈاکٹر میم الف نعیمی (ایڈووکیٹ) 

About The Author


ادارہ