امریکہ کے جنگ بندی منصوبے پر ایران کی سخت شرائط، کہا—پہلے خلیجی ممالک سے امریکی اڈے ہٹائے جائیں پھر بات ہوگی

امریکہ کے جنگ بندی منصوبے پر ایران کی سخت شرائط، کہا—پہلے خلیجی ممالک سے امریکی اڈے ہٹائے جائیں پھر بات ہوگی

ادارہ

امریکہ کے جنگ بندی منصوبے پر ایران کی سخت شرائط، کہا—پہلے خلیجی ممالک سے امریکی اڈے ہٹائے جائیں پھر بات ہوگی

تہران / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جنگ بندی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے تین بڑی شرائط عائد کر دی ہیں۔ ایرانی قیادت کا واضح کہنا ہے کہ جب تک ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کی جنگ بندی ممکن نہیں۔

ایران کی پہلی اور اہم ترین شرط یہ بتائی جا رہی ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور وہاں تعینات جنگی ساز و سامان کو فوری طور پر ہٹا لیا جائے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ان فوجی اڈوں کے باعث خطے میں تناؤ اور عسکری دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری شرط کے طور پر ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ حملوں اور عسکری جھڑپوں کے دوران ملک کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی اثاثوں کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا ازالہ امریکہ کرے۔ ایرانی حکام کے مطابق بغیر معاوضے کے کسی بھی معاہدے یا مفاہمت پر آمادگی ظاہر نہیں کی جائے گی۔

تیسری اور سخت ترین شرط کے طور پر ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی صرف اسی صورت میں ممکن ہوگی جب وہ ایران کی طے کردہ شرائط اور فریم ورک کے تحت ہو۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کی گئی یہ شرائط امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑی سفارتی آزمائش بن سکتی ہیں۔ اگر ان مطالبات پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور متعدد ممالک نے دونوں فریقوں سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی اپیل کی ہے۔ اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکہ ایران کی شرائط قبول کرے گا یا مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کرے گی۔

About The Author


ادارہ